روزہ کے مسائل اور فضائلِ

جو مسلمان بالغ اور صحت مند ہیں ان پر فرض ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران فجر سے شام تک کھانے پینے سے پرہیز کریں سوائے ان لوگوں کے جو روزہ نہیں رکھ سکتے۔ کبھی کبھار ایسے حالات پیش آتے ہیں جب رہنمائی یا وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مضمون ان حالات میں احادیث کی روشنی میں روزہ کے مسائل میں رہنمائی کرنے کی ایک کوشش ہے۔

The Muslims who are adult and healthy are required to abstain from food and drink from dawn to dusk during the holy month Ramadan with the exception of those who can not fast. There are occasions when a guidance or clarity is required. This article is an attempt to gather the related Hadiths for the guidance.

Source: Sahih Bukhari#1995

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَزَعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، قَالَ : سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي ، قَالَ :    لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ ، وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا    .

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: (who fought in twelve Ghazawat in the company of the Prophet). I heard four things from the Prophet and they won my admiration. He said; -1.   No lady should travel on a journey of two days except with her husband or a Dhi-Mahram; -2.   No fasting is permissible on the two days of Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha; -3.   No prayer (may be offered) after the morning compulsory prayer until the sun rises; and no prayer after the `Asr prayer till the sun sets; -4.   One should travel only for visiting three Masjid (Mosques): Masjid-al-Haram (Mecca), Masjid-al- Aqsa (Jerusalem), and this (my) Mosque (at Medina).

میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہادوں میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت ہی پسند آئیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن  ( یا اس سے زیادہ )  کے اندازے کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی اور محرم نہ ہو۔ اور عیدالفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں اور چوتھی بات یہ کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے «شد الرحال» سفر نہ کیا جائے، ”مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری یہ مسجد  ( مسجد نبوی ) ۔

Source: Sahih Bukhari#1968

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ : فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً ، فَقَالَ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، فَقَالَ : كُلْ ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ ، قَالَ : فَأَكَلَ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ، ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ ، قَالَ : نَمْ ، فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ ، فَقَالَ : نَمْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، قَالَ سَلْمَانُ : قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ سَلْمَانُ .

Narrated Abu Juhaifa: The Prophet made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda.’ Salman paid a visit to Abu Ad-Darda’ and found Um Ad-Darda’ dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state. She replied, Your brother Abu Ad-Darda’ is not interested in (the luxuries of) this world. In the meantime Abu Ad-Darda’ came and prepared a meal for Salman. Salman requested Abu Ad- Darda’ to eat (with him), but Abu Ad-Darda’ said, I am fasting. Salman said, I am not going to eat unless you eat. So, Abu Ad-Darda’ ate (with Salman). When it was night and (a part of the night passed), Abu Ad-Darda’ got up (to offer the night prayer), but Salman told him to sleep and Abu Ad- Darda’ slept. After sometime Abu Ad-Darda’ again got up but Salman told him to sleep. When it was the last hours of the night, Salman told him to get up then, and both of them offered the prayer. Salman told Abu Ad-Darda’, Your Lord has a right on you, your soul has a right on you, and your family has a right on you; so you should give the rights of all those who has a right on you. Abu Ad- Darda’ came to the Prophet and narrated the whole story. The Prophet said, Salman has spoken the truth.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں ( ہجرت کے بعد ) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو ( ان کی عورت ) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے ( اور روزہ توڑ دیا ) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔

Source: Sahih Bukhari#1968

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :    آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ : فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً ، فَقَالَ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، فَقَالَ : كُلْ ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ ، قَالَ : فَأَكَلَ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ، ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ ، قَالَ : نَمْ ، فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ ، فَقَالَ : نَمْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، قَالَ سَلْمَانُ : قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ    ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ سَلْمَانُ .

Narrated Abu Juhaifa: The Prophet made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda.’ Salman paid a visit to Abu Ad-Darda’ and found Um Ad-Darda’ dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state. She replied,   Your brother Abu Ad-Darda’ is not interested in (the luxuries of) this world.   In the meantime Abu Ad-Darda’ came and prepared a meal for Salman. Salman requested Abu Ad- Darda’ to eat (with him), but Abu Ad-Darda’ said,   I am fasting.   Salman said,   I am not going to eat unless you eat.   So, Abu Ad-Darda’ ate (with Salman). When it was night and (a part of the night passed), Abu Ad-Darda’ got up (to offer the night prayer), but Salman told him to sleep and Abu Ad- Darda’ slept. After sometime Abu Ad-Darda’ again got up but Salman told him to sleep. When it was the last hours of the night, Salman told him to get up then, and both of them offered the prayer. Salman told Abu Ad-Darda’,   Your Lord has a right on you, your soul has a right on you, and your family has a right on you; so you should give the rights of all those who has a right on you.   Abu Ad- Darda’ came to the Prophet and narrated the whole story. The Prophet said,   Salman has spoken the truth.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں  ( ہجرت کے بعد )  بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو  ( ان کی عورت )  ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے  ( اور روزہ توڑ دیا )  رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔

Source: Sahih Bukhari#1965

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ    ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .

Narrated Abu Huraira: Allah’s Apostle forbade Al-Wisal in fasting. So, one of the Muslims said to him,   But you practice Al- Wisal. O Allah’s Apostle!   The Prophet replied,   Who amongst you is similar to me? I am given food and drink during my sleep by my Lord.   So, when the people refused to stop Al-Wisal (fasting continuously), the Prophet fasted day and night continuously along with them for a day and then another day and then they saw the crescent moon (of the month of Shawwal). The Prophet said to them (angrily),   If It (the crescent) had not appeared, I would have made you fast for a longer period.   That was as a punishment for them when they refused to stop (practicing Al-Wisal).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل  ( کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر )  روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔

Source: Sahih Bukhari#1953

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى    ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ ، حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَا : سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، وَسَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ ، وَقَالَ يَحْيَى ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ ، وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا .

Narrated Ibn `Abbas: A man came to the Prophet and said,   O Allah’s Apostle! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?   The Prophet replied in the affirmative and said,   Allah’s debts have more right to be paid.   In another narration a woman is reported to have said,   My sister died…   Narrated Ibn `Abbas: A woman said to the Prophet   My mother died and she had vowed to fast but she didn’t fast.   In another narration Ibn `Abbas is reported to have said,   A woman said to the Prophet,   My mother died while she ought to have fasted for fifteen days.

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ”بہن“ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔

Source: Sahih Bukhari#1933

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :   إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ   .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said,   If somebody eats or drinks forgetfully then he should complete his fast, for what he has eaten or drunk, has been given to him by Allah.

کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔

Source: Sahih Bukhari#1930

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ .

Narrated `Aisha: (At times) in Ramadan the Prophet used to take a bath in the morning not because of a wet dream and would continue his fast.

عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے ) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ ( معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کر سکتا ہے ) ۔

Source: Sahih Bukhari#1925

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَبِي حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَ مَرْوَانَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ :    أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ    ، وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ : أُقْسِمُ بِاللَّهِ ، لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَكَانَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ : إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا ، وَلَوْلَا مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَيَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ ، فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُنَّ أَعْلَمُ ، وَقَالَ هَمَّامٌ ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ ، وَالْأَوَّلُ أَسْنَدُ .

Narrated `Aisha and Um Salama: At times Allah’s Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.

میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا  ( دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ )  اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ  ( بعض مرتبہ )  فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔  ( کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلاف تھا )  ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا  ( میں کیا کروں )  کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی  ( اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں )  کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔

Source: Sahih Bukhari#1915

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ    ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ لَهَا : أَعِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ ، قَالَتْ : خَيْبَةً لَكَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187 ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا ، وَنَزَلَتْ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187.

Narrated Al-Bara: It was the custom among the companions of Muhammad that if any of them was fasting and the food was presented (for breaking his fast), but he slept before eating, he would not eat that night and the following day till sunset. Qais bin Sirma-al-Ansari was fasting and came to his wife at the time of Iftar (breaking one’s fast) and asked her whether she had anything to eat. She replied,   No, but I would go and bring some for you.   He used to do hard work during the day, so he was overwhelmed by sleep and slept. When his wife came and saw him, she said,   Disappointment for you.   When it was midday on the following day, he fainted and the Prophet was informed about the whole matter and the following verses were revealed:   You are permitted To go to your wives (for sexual relation) At the night of fasting.   So, they were overjoyed by it. And then Allah also revealed:   And eat and drink Until the white thread Of dawn appears to you Distinct from the black thread (of the night).   (2.187)

  ( شروع اسلام میں )  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہو جاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا  ( اس وقت کچھ )  نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں  ( سوتے ہوئے )  دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہو گئے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ”حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا“ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری  ( صبح صادق )  سیاہ دھاری  ( صبح کاذب )  سے۔“

Source: Sahih Bukhari#1906

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ

.Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah’s Apostle mentioned Ramadan and said, Do not fast unless you see the crescent (of Ramadan), and do not give up fasting till you see the crescent (of Shawwal), but if the sky is overcast (if you cannot see it), then act on estimation (i.e. count Sha’ban as 30 days).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس دن پورے کر لو۔

Source: Sahih Bukhari#1900

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :    إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ    ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلَالِ رَمَضَانَ .

Narrated Ibn `Umar: I heard Allah’s Apostle saying,   When you see the crescent (of the month of Ramadan), start fasting, and when you see the crescent (of the month of Shawwal), stop fasting; and if the sky is overcast (and you can’t see it) then regard the month of Ramadan as of 30 days.

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو۔  ( یعنی تیس روزے پورے کر لو )  اور بعض نے لیث سے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ ”رمضان کا چاند“ مراد ہے۔

Source: Sahih Bukhari#1894

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ ، وَشَرَابَهُ ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا    .

Narrated Abu Huraira: Allah’s Apostle said,   Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, ‘I am fasting.   The Prophet added,   By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), ‘He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے  ( روزہ دار )  نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں،  ( یہ الفاظ )  دو مرتبہ  ( کہہ دے )  اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے،  ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے )  بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور  ( دوسری )  نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔

Source: Sahih Bukhari#7290

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً ، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ .

Narrated Zaid bin Thabit: The Prophet took a room made of date palm leaves mats in the mosque. Allah’s Apostle prayed in it for a few nights till the people gathered (to pray the night prayer (Tarawih) (behind him.) Then on the 4th night the people did not hear his voice and they thought he had slept, so some of them started humming in order that he might come out. The Prophet then said, You continued doing what I saw you doing till I was afraid that this (Tarawih prayer) might be enjoined on you, and if it were enjoined on you, you would not continue performing it. Therefore, O people! Perform your prayers at your homes, for the best prayer of a person is what is performed at his home except the compulsory congregational) prayer. (See Hadith No. 229,Vol. 3) (See Hadith No. 134, Vol. 8)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.