عید الاضحٰی: قربانی کے مسائل احادیث کی روشنی میں

Pin it .

عید الاضحی کے موقع پر عموماً لاعلمی کی وجہ سے جانور کی قربانی میں کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے قربانی کے مقبول ہونے میں شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جن کو سمجھنے کے لیے یہ ایک چھوٹی سیکاوش قربانی کے مسائل احادیث کی روشنی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔قربانی کے مسائل حدیث کی روشنی میں درج ذیل ہیں:

(Qurbani ke Masail) قربانی کے مسائل

قربانى کا ثواب
مشکوٰۃ المصابیح – حدیث نمبر: 1449

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِی قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصَّوْفُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصَّوْفِ حَسَنَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)

ترجمہ:
اور حضرت زید ابن ارقم ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اصحاب نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ (یعنی ان کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا گائے اور بکری کی قربانی کرنے میں کہ جن کے بال ہوتے ہیں) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے (انہوں نے عرض کیا کہ صوف (یعنی دنبہ، بھیڑ اور اونٹ کی اون اور اس کے بدلہ میں کیا ثواب ملتا ہے؟ ) فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔ (احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)

قربانی کا ثواب
سنن ابن ماجہ – حدیث نمبر: 3127

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ.

ترجمہ:
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: بھیڑ میں (بھی) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔

قربانی کے سنت ہونے کا بیان
صحیح بخاری – حدیث نمبر:5545

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُطَرِّفٌ:‏‏‏‏ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ.

ترجمہ:
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہوگی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کرلیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کرلیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کرلوں؟ ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوگی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔

عشرہ ذی الحجہ کے نیک اعمال کی فضیلت
مشکوٰۃ المصابیح – حدیث نمبر: 1434

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰہ عنھما قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ اَےَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِےْھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ الْاَےَّامِ الْعَشْرِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ ےَرْجِعْ مِنْ ذَالِکَ بِشَیئٍ۔(صحیح البخاری)

ترجمہ:
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنوں میں کوئی دن نہیں ہے جس میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے عشرہ) سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ( ان ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر) نہیں ہے؟ فرمایا ہاں! اس آدمی کا جہاد جو اپنی جان و مال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں لڑنے) نکلا اور پھر واپس نہ ہوا ( ان دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ افضل ہے)۔ (صحیح البخاری ٰ

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد ایسا ہو جس میں مال و جان سب اللہ کی راہ میں قربان ہوجائے اور جہاد کرنے والا مرتبہ شہادت پا جائے تو وہ جہاد البتہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہے کیونکہ ثواب نفس کشی و مشقت کے بقدر ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال قربان کردینے سے زیادہ نفس کشی اور مشقت کیا ہوسکتی ہے؟ چونکہ رمضان کے نیک اعمال کی بھی بہت زیادہ فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کی مراد یہ ہو کہ ان دنوں کے نیک اعمال ایام رمضان کے نیک اعمال کے علاوہ دوسرے دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں یا رمضان کے نیک اعمال اس حیثیت سے سب سے زیادہ محبوب نہیں کہ ان دنوں میں فرض روزے رکھے جاتے ہیں۔ اور بہت زیادہ برگزیدہ و مقدس ترین شب یعنی لیلۃ القدر بھی رمضان ہی میں آتی ہے اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے اعمال اس اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ بہت زیادہ برگزید اور باعظمت و فضیلت دن یعنی عرفہ انہیں دنوں میں آتا ہے۔ اور افعال حج بھی انہیں ایام میں ہوتے ہیں

عید گاہ جانے کا طریقہ
مشکوٰۃ المصابیح – حدیث نمبر: 1420

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی طَرَیْقٍ رَجَعَ فِی غَیْرِہٖ۔ (رواہ الترمذی)

ترجمہ:
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (عید گاہ) ایک راستہ سے تشریف لے جاتے تو واپس دوسرے راستہ سے ہوتے تھے۔ (جامع ترمذی، دارمی)

تشریح
عیدگاہ جانے کے لئے ایک راستہ اختیار کرنا اور واپسی کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنا مسنون ہے، اس کی حکمت اسی باب کی فصل میں ایک حدیث کی فائدہ کے ضمن میں بیان کی جا چکی ہے۔ عیدگاہ جاتے ہوئے۔ راستہ میں یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد پڑھتے رہنا چاہیے۔ صاحبین کے نزدیک تو عید و بقر عید دونوں موقع پر راستہ میں یہ تکبیر بلند آواز سے پڑھنی چاہیے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ عید الفطر میں تو یہ تکبیر آہستہ آواز سے۔ اور بقر عید میں بلند آواز سے پڑھنا چاہیے۔

ایام قربانی
مشکوٰۃ المصابیح – حدیث نمبر: 1447

وَعَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ اَلْاَضْحٰی یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمُ الْاَضْحٰی رَوَاہُ مَالِکٌ وَقَالَ بَلَغَنِیْ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ مِثْلَہ،۔

ترجمہ:
اور حضرت نافع راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا بقر عید کے دن کے بعد قربانی کے دو دن ہیں۔ امام مالک نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مجھے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، سے بھی اس قسم کی روایت پہنچی ہے۔

تشریح
حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم تینوں ائمہ کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ قربانی کا آخری وقت ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آخری وقت تیرہویں تاریخ تک رہتا ہے۔ یہ حدیث تینوں ائمہ کی مستدل اور حضرت امام شافعی (رح) پر حجت ہے۔

قربانی کا وقت
صحیح مسلم – حدیث نمبر: 5076

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ لَا يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّی يُصَلِّيَ قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَضَحِّ بِهَا وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ

ترجمہ:
احمد بن سعید دارمی، ابونعمان، عازم بن فضل، عبدالواحد بن زیاد، عاصم احول، شعبی، حضرت براء بن عازب ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا کوئی آدمی بھی جب تک نماز نہ پڑھ لے قربانی نہ کرے ایک آدمی نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کی بکری ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو اسی کی قربانی کرلے اور تیرے بعد ایک سال سے کم عمر کی قربانی کسی کے لئے جائز نہیں ہوگی۔

عیدالفطر میں نماز سے پہلے اور بقر عید میں نماز کے بعد کھانا پینا چاہیے
مشکوٰۃ المصابیح – حدیث نمبر: 1413

وَعَنْ بَرِیْدَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ وَلَا یُطْعَمُ یَوْمَ الْاَضْحٰی حَتّٰی یُصَلِّی ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ الدارمی)

ترجمہ:
حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے دن بغیر کچھ کھائے پئے عید گاہ تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ اور بقر عید کے دن بغیر نماز پڑھے کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی)

تشریح
عید کے روز نماز سے پہلے کھانے پینے کا سبب گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے۔ بقر عید کے روز آپ غرباء و مساکین کا ساتھ دینے اور ان کی دلجوئی کی خاطر بقر عید کی نماز کے بعد ہی کچھ تناول فرماتے تھے۔ کیونکہ غرباء و مساکین کو تو کچھ کھانا پینا اسی وقت نصیب ہوتا تھا جب قربانی ہوجاتی اور اس کا گوشت ان لوگوں میں تقسیم ہوجاتا اس لئے آپ ان کی وجہ سے خود بھی کھانے پینے میں تاخیر فرماتے تھے۔

اس بات کے بیان میں کہ جب ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہو اور آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اس کے لئے قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں کا کٹوانا منع ہے۔
صحیح مسلم – حدیث نمبر: 5121

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّی يُضَحِّيَ

ترجمہ:
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابومحمد بن عمرولیثی، عمرو بن مسلم بن عمارہ بن اکیمہ لیثی، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کے پاس (قربانی کا جانور) ذبح کرنے کے لئے ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو وہ اس وقت تک اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کٹوائے جب تک کہ قربانی نہ کرلے۔

قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے اور بسم اللہ اور تکبیر کہنے کے استحباب کے بیان میں
صحیح مسلم – حدیث نمبر: 5088

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَی صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّی وَکَبَّرَ

ترجمہ:
یحییٰ بن یحیی، وکیع، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو سفید سینگ والے دنبوں کی قربانی کی حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا کہ آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ مبارک سے ذبح کیا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ انہیں ذبح کرتے وقت آپ ﷺ نے ان دونوں کی گردن کے ایک پہلو پر اپنا پاؤں مبارک رکھا اور آپ ﷺ نے بِسمِ اللہِ اور اَللَّهُ أَکْبَرُ بھی کہا تھا۔

میت کی طرف سے قربانی کرنے کا بیان
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2790

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنَشٍ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ.

ترجمہ:
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ (یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔

قربانی کے لئے کس عمر کا جانور ہونا چاہئے
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2797

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ.

ترجمہ:
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف مسنہ ١ ؎ ہی ذبح کرو، مسنہ نہ پاؤ تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو ۔
وضاحت: ١ ؎: مسنہ وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہوگیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کرکے تیسرے میں داخل ہوجائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کرکے دوسرے میں داخل ہوجائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہوچکا ہو، اہل لغت اور شارحین میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ شرح مشکاۃ )

قربانی میں کونسا جانور مکروہ ہے
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2805

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ وَيُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الأُذُنِ وَالْقَرْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ جُرَيٌّ سَدُوسِيٌّ بَصْرِيٌّ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ إِلَّا قَتَادَةُ.

ترجمہ:
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عضباء (یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔

قربانی میں کونسا جانور مکروہ ہے
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2804

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نُضَحِّي بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا شَرْقَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ، ‏‏‏‏‏‏لَا قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا الْمُقَابَلَةُ ؟ قَال:‏‏‏‏ يُقْطَعُ طَرَفُ الأُذُنِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا الْمُدَابَرَةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يُقْطَعُ مِنْ مُؤَخَّرِ الأُذُنِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا الشَّرْقَاءُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تُشَقُّ الأُذُنُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا الْخَرْقَاءُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تُخْرَقُ أُذُنُهَا لِلسِّمَةِ.

ترجمہ:
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں (کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ مقابلة کی، نہ مدابرة کی، نہ خرقاء کی اور نہ شرقاء کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا عضباء کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں (عضباء اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں) ۔ میں نے پوچھا مقابلة کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: مدابرة کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا:خرقاء کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں (گولائی میں) میں نے کہا: شرقاء کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں (نشان کے لیے) ۔

اونٹ گائے اور بھینس وغیرہ کہ قربانی کتنے افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے؟
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2807

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَمَتَّعُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا.

ترجمہ:
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہوجاتے ١ ؎۔
وضاحت: ١ ؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ ضابطہ و اصول ہدی کے جانوروں کے لئے ہے، قربانی میں اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہم سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، قربانی کا وقت آگیا تو گائے میں ہم سات آدمی شریک ہوئے، اور اونٹ میں دس آدمی، یہ روایت سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہے۔

قربانی کے جانور پر شفقت کرنا
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2815

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.

ترجمہ:
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ایک یہ کہ: اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم (قصاص یا حد کے طور پر کسی کو) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو (یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کرلو تڑپا تڑپا کر مت مارو) ، (اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔

پیٹ کے بچہ کی زکوة (ذبح) کا بیان
سنن ابوداؤد – حدیث نمبر: 2827

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.

ترجمہ:
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھالو ١ ؎۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو اسے کھالو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے ۔
وضاحت: ١ ؎: اکثر علماء کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ سے اس کے خلاف مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور اگر مردہ ہو تو نہ کھائے۔

جس شخص میں قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو؟
سنن نسائی – حدیث نمبر: 4370

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ آخَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى،‏‏‏‏ أَفَأُضَحِّي بِهَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: مجھے قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ) کو عید منانے کا حکم ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید کا دن بنایا ہے ، وہ شخص بولا: اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کی قربانی کروں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی کے دن) ١ ؎ اپنے بال، ناخن کاٹو، اپنی مونچھ تراشو اور ناف کے نیچے کے بال کاٹو، تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری مکمل قربانی ہے ۔
وضاحت: ١ ؎: یعنی: ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جاؤ، اور عید کی نماز پڑھ کر ان کو کاٹو تو تمہیں بھی مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔

ایک بکری ایک گھر کے لئے کافی ہے۔
جامع ترمذی – حدیث نمبر: 1505

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ:‏‏‏‏ كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَالرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ،‏‏‏‏ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ،‏‏‏‏ فَيَأْكُلُونَ،‏‏‏‏ وَيُطْعِمُونَ،‏‏‏‏ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ،‏‏‏‏ فَصَارَتْ كَمَا تَرَى ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ:‏‏‏‏ مَدَنِيٌّ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا عَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ،‏‏‏‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَا تُجْزِي الشَّاةُ إِلَّا عَنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

ترجمہ:
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ (کثرت قربانی پر) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہوگئی جو دیکھ رہے ہو ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ – یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ – راوی عمارہ بن عبداللہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے، ٣ – بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا: یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے ، ٤ – بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک بکری ایک ہی آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی، عبداللہ بن مبارک اور دوسرے اہل علم کا یہی قول ہے (لیکن راجح پہلا قول ہے) ۔
وضاحت: ١ ؎: یعنی لوگ قربانی کرنے میں فخر و مباہات سے کام لینے لگے ہیں۔

صحیح سالم جانور قربانی کے لئے خریدا پھر خریدار کے پاس آنے کے بعد جانور میں کوئی عیب پیدا ہوگیا
سنن ابن ماجہ – حدیث نمبر: 3146

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بكر، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ابْتَعْنَا كَبْشًا نُضَحِّي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَ الذِّئْبُ مِنْ أَلْيَتِهِ أَوْ أُذُنِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنَا أَنْ نُضَحِّيَ بِهِ.

ترجمہ:
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کردیا، ہم نے نبی اکرم ﷺ سے (اس سلسلے میں) سوال کیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔

قربانی کی کھالوں کا بیان
سنن ابن ماجہ – حدیث نمبر: 3157

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ:‏‏‏‏ أَنَّ مُجَاهِدًاأَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَجُلُودَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَجِلَالَهَا لِلْمَسَاكِينِ.

ترجمہ:
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔

کھال اتارنے کا طریقہ
سنن ابن ماجہ – حدیث نمبر: 3179

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا فَاسْلُخْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

ترجمہ:
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: الگ ہوجاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ١ ؎۔
وضاحت: ١ ؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔

نجاست کھانے والے جانور کے گوشت سے ممانعت
سنن ابن ماجہ – حدیث نمبر: 3189

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا.

ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جلالہ (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کے گوشت اور اس کے دودھ سے منع فرمایا۔

مندرجھ بالا احادیث سے قربانی کے مسائل کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے-قربانی کے مسائل کو احادیث پر غور کرنے کے بعد ھی ھل کیا جاسکتا ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*